اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

رئیسؔ امروہوی
کیوں جانِ حزیں خطرۂ موہوم سے نکلے
کیوں نالۂ حسرت دلِ مغموم سے نکلے
آنسو نہ کسی دیدۂ مظلوم سے نکلے
کہہ دو کہ نہ شکوہ لبِ مغموم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اردو کا غمِ مرگ سبک بھی ہے گراں بھی
ہے شاملِ اربابِ عزا شاہ جہاں بھی
مٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھی
یہ میت غم دہلیٔ مرحوم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اے تاج محل نقش بہ دیوار ہو غم سے
اے قلعۂ شاہی! یہ الم پوچھ نہ ہم سے
اے خاکِ اودھ! فائدہ کیا شرحِ ستم سے
تحریک یہ مصر و عرب و روم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
سایہ ہو جب اردو کے جنازے پہ ولیؔ کا
ہوں میرؔ تقی ساتھ تو ہمراہ ہوں سوداؔ
دفنائیں اسے مصحفیؔ و ناسخؔ و انشاؔ
یہ فال ہر اک دفترِ منظوم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
بد ذوق ہے احباب سے گو ذوقؔ ہیں رنجور
اردوئے معلیٰ کے نہ ماتم سے رہیں دور
تلقین سرِ قبر پڑھیں مومنؔ مغفور
فریاد دلِ غالبِؔ مرحوم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
ہیں مرثیہ خواں قوم ہیں اردو کے بہت کم
کہہ دو کہ انیسؔ اس کا لکھیں مرثیۂ غم
جنت سے دبیرؔ آ کے پڑھیں نوحۂ ماتم
یہ چیخ اٹھے دل سے نہ حلقوم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اس لاش کو چپکے سے کوئی دفن نہ کر دے
پہلے کوئی سر سیدِ اعظم کو خبر دے
وہ مردِ خدا ہم میں نئی روح تو بھر دے
وہ روح کہ موجود نہ معدوم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اردو کے جنازے کی یہ سج دھج ہو نرالی
صف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والی
ؔآزادؔ و نذیرؔ و شررؔ و شبلیؔ و حالی
فریاد یہ سب کے دلِ مغموم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام