کسی میں یک بیک ہوتا ہے کب ایسا ہنر پیدا

خاورؔ نقوی
کسی میں یک بیک ہوتا ہے کب ایسا ہنر پیدا
کہ اک گولی کے کھانے سے شکم میں ہوں بھنور پیدا
منادی نے ندا دی شہر کے ہر ایک کوچے میں
کہ طب کی سلطنت کا ہو گیا ہے تاجور پیدا
مطب کھلتے ہی اخبارات میں یہ اشتہار آیا
ہوا ہے بو علی سینا کی صورت دیدہ ور پیدا
وہ جب بیمار کو چمچہ دوائی کا پلاتا ہے
بدن میں اس کے ہوتے ہیں شرر اندر شرر پیدا
سمندر میں اسے غو طہ لگانے کی نہیں حاجت
وہ پانی بیچ کے کر لیتا ہے لعل و گہر پیدا
دوائیں اس کی کھانے کی فقط دو ہی نتیجے ہیں
کبھی دردِ کمر پیدا کبھی ضعفِ جگر پیدا

مریضوں کو مسلسل مار کے یہ مجھ سے فرمایا
’کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا‘

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام