بزم سخن

ایک مختصر تعارف

اردو شعر و ادب کی اس بزم "بزم سخن" میں آپ حضرات کا پرتپاک خیر مقدم ہے ۔

 

      شاعری در اصل وہ موزوں و قافیہ بند کلام ہے جو کہ اپنے اندر الفاظ کی معنویت کا شعور وادارک پنہاں رکھتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ دین فطرت کے راہ نما جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول بلیغ سے  اس جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ (ان من الشعر لحکمۃ)۔

            جب یہ شاعری اردو زبان کے قالب میں  پیش کی جاتی ہے تو پھر یہ برصغیر کی برس ھا برس کی روشن اور جگمگاتی تہذیب و تمدن کا درخشاں باب بلکہ اس کا ایک صاف و شفاف آئینہ بن جاتی ہے جس میں نہ جانے کتنے تاریخی حالات و کوائف کا احاطہ ،جذبات اور احساسات کا پیرایہ بیان ،حسن و عشق کی سرمستیوں کے انعکاسات ، دردویاس کی ٹیس کی چبھن اور مرورایام کے حقائق و حوادث کی تصویر کشی کی عکاسی ملتی ہے اور جب اس کا تعلق دین و شریعت سے جڑ جاتا ہے تو پھر حمد و نعت  مناجات و منقبت کے ان خزانو ں کا دریچہ وا کرتی ہے جہاں کے لعل و گہر سمیٹتے سمیٹتے زندگانی فانی ہوجائے ۔

            بزم سخن یہی وہ بزم ہے جس میں ہم آپ کی خدمت میں اسی اردو شاعری کے بحر بیکراں سے ان چندبیش قیمت گوہر تاباں کو اس شاعری کی مشہور و معروف اصناف کی لڑی میں پرو کرپیش کر رہے ہیں ، یہ خزانہ ہمارے زمانہ طالب علمی سے اب تک کے اس طویل سفر پر محیط ہے جس میں ہم نے اردو شاعری کی ان کڑیوں کو شعراء کرام کی کلیات و دواوین سے انتخاب کرتے ہوئے، دیگر کتب و مجلات کے مطالعہ کے دوران ، بیت بازی کے مقابلوں کی تیاری میں، صاحب ذوق ادب پرور دوست احباب کی محفلوں سےاور کچھ مشاعروں میں شرکت کرتے ہوئے اور عصر حاضر کے دیگر ذرائع سے جمع کیا ہے ،اس کوشش و کاوش میں  ہم کتنے کامیاب ہیں اس کا اندازہ ایک صاحب ذوق  خود لگا سکتا ہے ، امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا اور بزم تازہ بہ تازہ اضافوں سے آپ کی اس ادبی تشنگی کو بجھاتی رہےگی۔

            اپنے باذوق احباب سے یہی امید رکھتے ہیں کہ اس بزم میں کسی تقصیر یا کوتاہی ، کسی غلطی یا بے ادبی کے متعلق ہمیں ضرور آگاہ کریں گے اور اس بزم کو پھلا پھولا رکھنے میں اپنا قیمتی تعاون نیز اپنے آراء و مشوروں سے نوازتے رہیں گے۔

  ثاقب ندوی              

 

"بزم سخن " تک کا سفر۔۔۔۔۔۔

اردو شعر و ادب کے اپنے اس ذوق و شوق کی شروعات سے لے کر اس بزم "بزم سخن" تک کا یہ سفر آ ج اپنی ایک دلی تمنا کی طرح بر آیا ہے ، اس سفر کا اس وقت  آغاز ہوا تھا جس وقت سے ہم نے اردو زبان کے الفاظ و معانی کے ادارک کا مزہ چکھا تھا ، طالب علمی کا یہی کوئی پانچواں سال ہوگا کہ جس وقت درسی کتابوں سے ہٹ کر کسی حمدکے بول گنگنانے یا نعت رسول پاک سے زبان و دہن کومعطر کرنے کا چسکہ لگ گیا تھا ، طالب علمی کے ابتدائی ایام میں نظمیں سنانے کا ذوق و شوق ،جلسہ و جلوس کے آغاز میں حمد و نعت کا روایتی اندازاوراپنے ساتھیوں کی ان مقابلوں میں  شرکت دیکھتے ہوئے اپنی طبیعت بھی اس جانب مائل ہوتی گئی ،اگر چہ ترنم کی وادیوں کی سیر میسر نہیں آئی مگر شعر و ادب کی اس رہ گذر کا مسافر اس سفر میں مگن مگن گامزن ہوتا گیا اور آج بھی اس راہ پر رخت سفر باندھے ہوئے ہے۔

      جہاں تک ماضی کے خوشگوار ایام کی یادیں ہیں ، مجھے یاد آتا ہے کہ استاد گرامی جناب مولانا طلحہ صاحب نے ہمیں جماعت پنجم کے ابتدائی دنوں ہی میں ایک شعرازبر کرایا تھا ، میری اپنی یاد داشت کے مطابق یہ میری شعر و ادب سے انسیت کا پہلا شعر ہے جو کہ خود ایک عظیم پیغام کا  حامل ہے۔

نور حق شمع  الہی کو بجھا  سکتا  ہے  کون

جس کا حامی ہو خدا اس کومٹا سکتا ہے کون

      پھر جیسے جیسے تعلیمی مدارج طئے ہوتے گئے ، یہ ذوق و شوق بھی بڑھتا گیا ، بہترین نعتیں جمع کرنے کا شوق ، تقریروں میں  موزوں اشعار کے استعمال اور بیت بازی کے مقابلوں نے اس کو مزید سے مزید جلا بخشی ، پھر کلیات و دواوین اور ادبی مجلات سے اشعار کا انتخاب شروع ہو ا، بیت بازی کے مقابلےاب تحت اللفظ سے اٹھ کر مفہوم کا ترکی بہ ترکی جواب، طنز پر طنزیہ پلٹ وار اورایک ایک شعرکہنے سے بڑھ کر بسااوقات پوری غزلوں تک پہنچ گئے اور یہی مقابلوں نے اس ادبی لو کو عروج بخشا اور پھر متشاعر سے شاعر بننے کی دھن سوار ہوئی مگر اسے اپنی افتاد طبع کہئے کہ جب اپنی ایک دو تخلیق کا بوقت اصلاح مکمل پوسٹ مارٹم ہوتے اور بجائے تنقیح کے اپنی تخلیق مکمل طور پر استاد شاعر کی مشق سخن بنتے دیکھا تو اس سے توبہ ہی ہوگئی۔۔۔۔۔

      الحمد للہ شعرو سخن کی یہ تشنگی تاحال باقی ہے اور ہم اللہ کی ذات سے امید رکھتے ہیں کہ اس بحر بیکراں سےبیش بہا موتی اور چنتے رہیں گے اور اس کو "بزم سخن"کے ہار میں پرو کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے رہیں گے۔

            بڑی ناسپاسی ہو گی اگر میں اپنے ان معاونین کا شکریہ ادا نہ کروں جنہوں نے میری اس بزم "بزم سخن"کو سجانے سنوارنے میں اپنا گراں قدر تعاون کیا ہے ، خاص کر عزیزی راشد شاہ بندری کا جنہوں نے اس سائٹ کو بنانے میں اپنی خدمات پیش کی اور عزیزی جناب مدثر نذر صاحب کا جن کے اردو ٹیٹوریل(www.urdututs.com)سے میں نے خوب استفادہ کیا ہے اور جن کے مشوروں نے مجھے بڑی رہنمائی دی ہے ، اللہ تعالی ان دونوں کو اور دیگر سبھوں کو اجر سے نوازے ۔۔۔۔۔۔ آمین