اخترؔ شیرانی

پورا نام :

محمد داؤد خان

تخلص :

اخترؔ شیرانی

تاریخ ولادت ومقام :

4/مئی1905ء ٹونک،ریاست راجستھان

تاریخ وفات و مقام: 

 9/ستمبر1948ء لاہور 

مختصر حالات و کوائف:

               

               محمد داؤد خان اخترؔ شیرانی اردو زبان کی رومانی شاعری کے ممتاز شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ، ان کا تعلق افغانستان کے شیرانی قبیلے سے تھا جو سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آئے تهے اور ٹونک میں ہی قیام پذیر ہو گئے تھے ، اخترؔ شیرانی تقسیمِ ہند کے بعد اپنے والد مولانا محمود خان شیرانی صاحب کے ساتھ پاکستان جا کر لاہور مقیم ہوئے ، اخترؔ شیرانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا ، منشی فاضل کا امتحان پاس تو کرلیا لیکن والد صاحب جو کہ اورینٹل کالج لاہور کے فارسی کے استاد تھے، ان کی بڑی کوششوں کے باوجود بھی کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعر و شاعری کو ہی اپنا مستقل مشغلہ بنا لیا ، انہوں نے "ہمایوں" ، "سہیلی" اور "شاہکار" کی ادارت کے فرائض انجام دئے اور پھر اس کے بعد " انقلاب " ، "خیالستان " اور " رومان " کے نام سے اپنے پرچے بھی جاری کئے ۔

                اردو زبان کے اس ممتاز شاعر نے اپنی ذاتی زندگی میں بڑے دکھ جھیلے، زندگی کے رنج اور غم اور حالات کی ستم ظریفیوں نے انہیں بادہ نوش بنا دیا جس کے باعث ان کی صحت گرتی چلی گئی اور بالآخر جگر بے کار ہوگئے اور اسی مرض الموت میں مبتلا رہتے کوئی 43/سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔


اخترؔ شیرانی کا جملہ کلام
ہوا زمانہ کہ اُس نے ہم کو نہ بھول کر بھی سلام بھیجا
عشق کا موسم غم کی ہوائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
رات بھر اُن کا تصوّر دل کو تڑپاتا رہا
مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ