ماہرؔ القادری

پورا نام :

منظور حسین صدیقی

تخلص :

ماہرؔ القادری

تاریخ ولادت ومقام :

30 جولائی 1907ء  کیسر کلاں  بُلند شہر(یو پی)

تاریخ وفات و مقام:

12 مئی 1978ء جدہ

مختصر حالات و کوائف:

آپ نے ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی اور 1926ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ’’انٹر‘‘ کا امتحان پاس کیا، آپ کے والد محمد معشوق علی ظریفؔ اچھے شاعر اور انگریزی داں تھے ، سلسہ قادریہ میں آ پ  بیعت ہونے کی وجہ سے ’’قادری " آپ کے نام کا جُز و بن گیا، والد کی وفات کے بعد کراچی آگئے ، اپریل ۱۹۴۹ء میں اپنا ادبی پرچہ’’فاران‘‘ جاری کیا، ماہرلقادری نے تمام اضاف سخن میں طبع آزمائی کی، شاعری کے ساتھ آپ نے افسانے، ناول کے علاوہ سیرت رسول اور اسلامی موضوعات پر تصانیف بھی لکھیں ، نعت نگاری آپ کی خاص  فن تھا جس سے آپ نے بڑی شہرت پائی ، اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں بھی طبع آزمائی کی ، ۱۲؍ مئی ۱۹۷۸ء کو جدہ مشاعرہ میں اپنا کلام  کہتے ہوئے آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے اور ’’جنت المعلیٰ‘‘ (مکہ معظمہ)میں دفن کیے گئے، آپ کی  نظم و نثر کی پچیس سے زائد تصانیف ہیں ۔

مجموعۂ کلام:

  • محسوسات ماہر، مجموعہ کلام
  • جذبات ماہر، مجموعہ  کلام
  • ماہر فردوس، مجموعہ کلام
  • ذکر جمیل، مجموعہ کلام
     

کچھ نامور تصانیف:

  • درِ یتیم ، (سیرت رسولِ اکرم )
  • آخری رسول
  • طلسم حیات
  • کاروانِ حجاز
  • "یادرفتگاں" فاران کے مضامین کا مجموعہ​


ماہرؔ القادری کا جملہ کلام
اے نگاہِ دوست! یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا
کسی کی بے رخی کا غم نہیں ہے
احساسِ خوشی مٹ جاتا ہے افسردہ طبیعت ہوتی ہے
مانا مقامِ عشرتِ ہستی بلند ہے
کچھ اس طرح نگاہ سے اظہار کر گئے
جھونکے کچھ آ گئے تھے نسیمِ بہار کے
کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے
کس بیم و رجا کے عالم میں طیبہ کی زیارت ہوتی ہے
جلوے تمام صرفِ نظر ہو کے رہ گئے
جب غم کی لطافت بڑھتی ہے جب درد گوارا ہوتا ہے
رسولِ مجتبے کہیئے محمد مصطفے کہیئے
وہ آئے ہر کسی کے سامنے اور بار بار آئے
تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں خورشیدِ منور آتے ہیں
ہر نفس میں دل کی بیتابی بڑھاتے جائیے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے، کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
گذرے ہوئے شباب کی یوں یاد آئے ہے
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ