دلاور حسین فگارؔ

 

 جناب دلاور فگارؔصاحب کا پورا نام دلاور حسین اور تخلص فگارؔ تھا ، 8 جولائی 1929 ءکو  شہر بدایوں(اترپردیش) میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم شہر بدایوں میں حاصل کی اور اس کے بعد آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو)اورایم اے (انگریزی)اور ایم اے معاشیات کی سندحاصل کی،شعروشاعری کا آغاز تقریباً بچپن ہی سے کیا ،موصوف نے اپنے اس سفرکا آغاز سنجیدہ کلام سے کیا تھا مگر اس کے بعد ظرافت نگاری کا رنگ جو چڑھا تو مزاح نگار اور ظرافت نگار شاعر کے طور پر اپنی ایک الگ ہی پہچان بنالی اور آپ کے کئی ایک مزاحیہ مجموعے بھی شائع ہو کر دادو تحسین پائے،ہندوستان سے  ہجرت کرپاکستان آئے تو کراچی کے ہوکر رہ گئے اور شاعری کے ساتھ ساتھ ایک عرصہ بحیثیت لیکچراربھی خدمات انجام دیں،موصوف مزاح نگارشاعر کے ساتھ ایک  نقاد،محقق اور ماہرتعلیم کی حیثیت بھی رکھتے تھے ، انہی ادبی خدمات پہ حکومت پاکستان نے بعدازمرگ  صدارتی تمغہ سےبھی  نوازا، 21 جنوری 1998ءکواردو زبان وادب کا یہ  ممتاز ظرافت نگار شہر کراچی میں وفات پا گیا۔

آپ کے مجموعہ کلام میں "حادثے" (غزلوں کا مجموعہ)اور مزاحیہ نظموں، قطعوں اور رباعیوں میں "مطلع عرض ہے" اور "ستم ظریفیاں،انگلیاں فگار اپنی،آداب عرض، شامت اعمال، سنچری، خدا جھوٹ نہ بلوائے، چراغ خنداں اور کہا سنا معاف کرنا" شامل ہیں۔

 


دلاور حسین فگارؔ کا جملہ کلام
جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں
سگنل پہ روکا ، روک کے بولا کوئی گدا
ہم بارہویں کلاس میں جب اسٹوڈنٹ تھے
شاعر میں اور شعر میں اک بحث چھڑ گئی
قیمت اپنی مانگتی تھی بھینس پورے بیس ہزار
طالبانِ علم کی نالج کو کیا کہیئے فگار
حاکمِ رشوت ستاں فکرِ گرفتاری نہ کر
سکتہ تھا ایک شاعرِ اعظم کے شعر میں

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ