مرزا اسد اللہ خان غالبؔ

 

زبانِ اردو کے سب سے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالؔب 27/دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، مرزا غالؔب کا اصل نام اسد اللہ بیگ خاں اوروالد کانام عبد اللہ بیگ تھا،بچپن ہی میں یتیم ہوگئے تھے، ان کی پرورش چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی، 1810ءمیں 13/سال کی عمر میں ان کی شادی نواب خاندان کے  مرزا الٰہی بخش خاں معروف کی بیٹی امرا بیگم سے ہوگئی، شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی جہاں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرؔ سے ان کو پذیرائی ملی اور نجم الدولہ، دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات بھی عطا ہوئےاور وہیں ان کے حکم پر خاندان تیموری کی تاریخ لکھی۔

مرازا غالؔب نے کم سنی ہی سے اپنے اس سفر کا آغاز کیا ،ابتدائی زمانے کی ان کی شاعری میں فارسی زبان وادب کی بھرپور جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے لیکن جس زمانے میں اور جس ماحول میں ان کی پیدائش ہوئی اور جن جن حالات کو انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھا پایا اُن نشیب وفراز نے ان کی فکرونظرمیں وہ وسعت پیدا کی جس نے انہیں اردو شعروادب کا لازوال شاعر بنادیا،انہوں نےاُس وقت کے حالات وواقعات کو جس سادگی اور عام سہل زبان میں نت نئے موضوعات بخشتے ہوئے بحسن وخوبی پیش کیا یہ دراصل اُسی وسعت فکر ونظر کا نتیجہ ہے، مرزا غالؔب کو اپنے فارسی شعروادب پر بڑا عبور حاصل تھا  تاہم ان کی شہرت ان کے اردو کلام اوراردو دیوان کی وجہ سے دائمی اور مقبول ہوگئی ، 15/فروری 1869ءکواردو زبان وادب کا یہ عظیم شاعر دہلی کی سرزمین مدفون  ہوا۔

 


مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کا جملہ کلام
رونے سے اور عِشق میں بےباک ہوگئے
سادگی پر اس کی مرجانے کی حسرت دل میں ہے
ایک آہ گرم لی تو ہزاروں کے گھر جلے
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ