ڈاکٹرحنیف شبابؔ

پورا نام :

محمد حنیف ابن عبد اللہ مشائخ

تخلص :

شبابؔ

تاریخ ولادت ومقام :

1953 ء بمقام بھٹکل

تاریخ وفات و مقام:

باحیات

مختصر حالات و کوائف:

ابتدائی تعلیم اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول بھٹکل میں پائی،بعد ازیں اعلی تعلیم کے لئے سرزمینِ بمبئی کا رخ کیا اور یونانی میڈیکل کالج بمبئی سے علم طب کی ڈگری حاصل کی اور شہر بمبئی ہی سے صحافتی کورس بھی مکمل کیا،زمانۂ طالب علمی ہی سے شعروشاعری کا ذوق انگڑائیاں لیتا رہا اور وہیں شہر بمبئے میں جدید شعراء و ادباء کے ساتھ قیام نے اس کو مزید پروان چڑھایا،جناب موصوف شروع ہی سے جماعت اسلامی کے اسٹیج سے تحریک پانے والی ادبی تحریک"ادارہ ادب اسلامی"سے وابستہ رہے ہیں۔

مجموعۂ کلام و تصانیف:

  • سلگتے خواب
  • لہو لہو موسم
  • اعتراف وتحسین(مجموعہ مقالات)
  • نیٹ ورک مارکیٹنگ۔حرام کاروبار کا سنہراجال

اعزازات  

 

  • سابق سب ایڈیٹر ۔روزنامہ انقلاب ،بمبئی
  • سابق ایٖڈیٹر۔ پندرہ روزہ "النوائط" بمبئی
  • سابق صدر ۔ادارہ ادب اسلامی،حلقہ کرناٹک و گوا
  • صدر ۔ادارہ ادب اسلامی،بھٹکل شاخ
  • رکن مجلس اعلی ادارہ ادب اسلامی کرناٹک
  • سابق سکریٹری ۔انجمن ترقی اردو ہند ،بھٹکل شاخ
  • سابق جنرل  سکریٹری۔مجلس اصلاح و تنظیم ،بھٹکل
  • سابق  معاون ناظم ادارہ تربیت اخوان بھٹکل

 


ڈاکٹرحنیف شبابؔ کا جملہ کلام
زندہ رہ کر زندگی کا مرثیہ لکھنا پڑا
چراغ کوئی جلا کے دیکھیں
کس سے گہری محبتیں کرتے
صرف اخبار کی سرخیاں رہ گئیں
اب وہ رکھتا ہے جدائی کے بہانے کتنے
پکّی قبریں ، کچّے گھر
فرش کے مکینوں کو عرش کی خبر لے کر میرے مصطفی آئے
کھویا کھویا رہتا ہے دل

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ