مرزا داغؔ دہلوی

پورا نام :

نواب مرزا خان

تخلص :

داغؔ

تاریخ ولادت ومقام :

25/مئی 1831 ء ،دہلی

تاریخ وفات و مقام:

1905 ء بمقام حیدرآباد

مختصر حالات و کوائف:

جناب مرزاداغؔ دہلوی کا شمار اس زبان کے تاریخی شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شفگتہ و شستہ، سحرآفرین و سلیس اور رنگینی و شوخ سے بھرپور کلام سے اردو شاعری کو بامِ عروج تک پہنچایا ہے،سونے پر سہاگہ جناب ذوقؔ کی شاگردی اور جناب بہادر شاہ ظفرؔ کی صحبت نے موصوف کے فن کو جلا بخشی اور موصوف نے اردو زبان کو اس کا صحیح حسن اور نکھار عطا کیا،موصوف کے کلام میں حق گوئی اور خلوص کے ساتھ ساتھ طنز و تعریض کی بھی آمیزش پائی جاتی ہے،کشش حسن، عشق و محبت  کے ساتھ ترنم اور جذبات کا البیلاپن ان کا فن شاعری کا خاصہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ ان کو دبیر الدولہ اور فصیح الملک جیسے خطابات سے نوازا گیا،موصوف کی شاگردی کا سلسلہ ہندوستان بھر تک پھیلا رہا  جہاں سے اقبالؔ و جگراور سیمابؔ اکبرآبادی جیسے شعراء نے اردو کے گیسو سنوارنے کاکام کیا ہے۔

 


مرزا داغؔ دہلوی کا جملہ کلام
نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُرالم نکلے
تم نے بدلے ہم سے گِن گِن کے لئے
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
آرزو یہ ہے کہ نکلے دَم تُمہارے سامنے
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ