مظفرؔ وارثی

اردو زبان وادب کے بہترین جانے مانے شاعر جناب مظفر وارثی صاحب کی پیدائش 20/دسمبر 1399ء کو میرٹھ میں ہوئی ، ان کا اصل نام مظفر الدین احمد صدیقی تھا ، صوفی وارثی کے نام سے مشہور الحاج جناب شرف الدین احمد سے تعلق خاطر ہونے کی بناء پر اپنا تخلص بھی وارثیؔ رکھ لیا ،ابتدائی تعلیم میرٹھ ہی میں حاصل کی اور 1947ء میں لاہور میٹرک مکمل کی ،آپ نے اپنی شاعری کا آغاز غزلوں اور فلمی گیتوں سے کیا مگر آگے چل کے آپ نے  حمدو نعت کا وہ کلام بھی پیش کیا کہ آپ کا شمار ایک بہترین نعت گو شاعر کی حیثیت سے کیا جانے لگا ، یوں تو ہر صنف میں آپ نے طبع آزمائی  کی ہےجس سے اردو شاعری میں آپ کی قدرومنزلت کا پتہ چلتا ہے ،"کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے" جیسی مشہور حمد اور"میرا پیمبر عظیم تر ہے" جیسی بے مثال نعت آپ کے فکروفن کا نشان سمجھی جاتی ہیں ، اپنے منفردشاعرانہ  اسلوب کے ساتھ ساتھ 20/سے زائد کتابیں بھی آپ کی عظمت شان پر دلالت کرتی ہیں جن میں "برف کی ناؤ، باب حرم، لہجہ، نور ازل، الحمد، حصار، لہو کی ہریالی، ستاروں کی آب جو، کعبہ عشق، کھلے دریچے بند ہوا، دل سے در نبی تک، ظلم نہ سہنا، کمند، گئے دنوں کا سراغ اور آپ بیتی‘‘ شامل ہیں،1981ءمیں آپ کو ریڈیو پاکستان کی جانب سے بہترین نعت خواں کا ایوارڈ بھی دیاجاچکا ہے اور 1988ءمیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی دیا گیاہے  ، آپ ایک عرصے  علیل رہنے کے بعد 28 جنوری 2011ء کو 77 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔


مظفرؔ وارثی کا جملہ کلام
تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کُھل جائیں
اس کی عادت ہے بھلا دیتا ہے وعدہ کرکے
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ