مولانا عامرؔ عثمانی

پورا نام :

مولانا امین الرحمٰن عامر عثمانی

تخلص :

عامرؔ عثمانی

تاریخ ولادت ومقام :

1920 ء  ،ہردوئی

تاریخ وفات و مقام:

1975ء  ،پونہ ، مہاراشٹر

مختصر حالات و کوائف:

مولانا امین الرحمٰن عامرؔ عثمانی  ایک صاحبِ طرز انشاء پرداز اورسلیم الطبع شاعرو ادیب تھے، والد ماجد کا نام مطلوب الرحمن تھا ،جناب عامر عثمانی خوددارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل (1938ء )ہونے کے ساتھ ساتھ دیو بند کے مایہ ناز فرزند علامہ شبیر عثمانی کے برادر زادے تھے، شعر و سخن کا ذوق ورثے میں ملا تھا، شاعری میں شہنشاہِ غزل جگر مرادآبادی سے خصوصی تعلق تھا خاص کر غزل گوئی میں انہی کا تتبع بھی فرماتے ،تحریر و تقریر میں لب ولہجے کی شستگی اور انوکھا نرالا  اسلوبِ بیان کے ساتھ ساتھ تنقید و تبصروں میں  بے باکی آپ کی تحریروں کا خاصہ ہے،1949ء میں دیوبند سے "تجلی" نام کا ایک ماہانہ رسالہ جاری کیاجو کہ آپ کی وفات تک جاری رہا ۔

مجموعۂ کلام:

  • یہ قدم قدم بلائیں

 

 

 


مولانا عامرؔ عثمانی کا جملہ کلام
بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
سحر کے انوار دیکھتا ہوں طلوعِ نجمِ سحر سے پہلے
نہ سکت ہے ضبطِ غم کی نہ مجالِ اشک باری
کبھی زباں پہ تھا افسانۂ لب و رخسار
دیوانوں کو اہلِ خرد نے چوراہے پر سولی دی ہے
نہیں کہ جادۂ عیش و نشاط پا نہ سکے
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ