ثاقب ؔ لکھنوی

 

اردو کے مشہورومعروف شاعر ثاقؔب لکھنوی کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش تھا ، ان کی پیدائش  2/جنوری 1869ء کو شہرآگرہ میں ہوئی ،ابتدائی تعلیم کے بعد آگرہ کالج میں تعلیم حاصل کی ،بچپن ہی سے شعر و شاعری کا شوق تھا،شعروادب اور سخنوری کا ایسا نشہ چڑھ گیا کہ زندگی کے سفر میں بابجا مصائب اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے پیچ و خم سے گذرتے گذرتے آخری ایام گوشہ نشینی اور عزلت میں گذارے اور 24/نومبر 1949ءکو  انتقال کیا،  " دیوان ثاقب " کے نام سے ایک یادگار دیوان شائع ہو ا ہے، موصوف کے کئے ایک اشعار اردو شاعری میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی پہچان بن گئے ہیں ۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے، داستاں کہتے کہتے

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا....... وہی پتے ہوا دینے لگے


ثاقب ؔ لکھنوی کا جملہ کلام
یہ دونوں متحد شکلیں ہیں حسن و عشقِ کامل کی
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
کسی کا رنج دیکھوں یہ نہیں ہوگا مرے دل سے
ہجر کی شب یوں مرے نالے صدا دینے لگے

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ