حفیظؔ جونپوری

محمد علی حفیظؔ جون پوری

1865ء تا 1918ء


حفیظؔ جونپوری کا جملہ کلام
دور کے نامۂ و پیغام میں کیا رکھا ہے
سنا کیا جو آنسو نکلنے لگے
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ