کلیم احمد عاجزؔ

پورا نام :

کلیم احمد

تخلص :

کلیمؔ عاجزؔ

تاریخ ولادت ومقام :

1925 ء،  تیلہاڑہ،عظیم آباد (پٹنہ)

تاریخ وفات و مقام:

5 /فروری 2015 ء ہزاری باغ ، بہار

مختصر حالات و کوائف:

جناب کلیم عاجز ؔصاحب مرحوم اردو زبان کے  ایک منفرد لب ولہجےوالے شاعر تھےبلکہ اگر کسی نے اردو شاعری میں میرؔ کی جانشینی کا فرض اور حق ادا کیا ہے تو وہ جناب کلیم عاجزؔ صاحب ہیں، آپ نے پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے ،ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی بھی ڈگری حاصل کی اور مدتوں  پٹنہ کالج اور پٹنہ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں، انھیں ان کی گراں قدر خدمات کے لیے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔

موصوف ایک قادر الکلام شاعراور عظیم المرتبت ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے خاکسار، رودار اور بہترین اخلاق و کردار کے پیکرمجسم تھے ، یہی وجہ تھی کہ کئی ایک دنیاوی اعزازات کے ، کئی دہائیوں سے صوبہ ٔبہار کے تبلیغی جماعت کے امیر بھی رہےاور دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام کیا، موصوف نے درجن بھر سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی ۔    

مجموعۂ کلام و تصانیف:

  • وہ جو شاعری کا سبب ہوا
  • جب فصل ِبہاراں آئی تھی
  • پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا
  • جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی
  • یہاں سے کعبہ ، کعبہ سے مدینہ
  • مجلس ادب
  • ابھی سن لو مجھ سے
  • کوچۂ جاناں جاناں

اعزازات و ایوارڈس:

  •   صوبائی امیر تبلیغی جماعت (بہار)
  • پدم شری   (1989 ء)
  • اردو مشاورتی کمیٹی کے چیئر مین
  • امتیازِ میرؔ، کل ہند میرؔ اکیڈمی ، لکھنو
  • مولانا مظہر الحق ایوارڈ
  • بہار راردو اکیڈمی ایوارڈ


کلیم احمد عاجزؔ کا جملہ کلام
بے کلی ہے اور دلِ ناشاد ہے
اُن کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے
کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
حقیقتِ حسن ۔ ۔ ۔ ۔حسن کاکل میں نہ گیسوئے
ہم نشیں ، آ ذرا دل کھول کے کچھ بات کریں
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اُسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا
ستم کو بھی کرم ہائے نہاں کہنا ہی پڑتا ہے
جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے
غزلیں بھی کہیں پُرغم کتنی اس پر بھی علاجِ غم نہ ہوا
تم گُل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
جب فصلِ بہاراں آئی تھی گلشن میں اُنہی ایام سے ہم
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ