بشیر بدرؔ

                              اردوزبان کے موجودہ دور کے معروف و مشہورشاعرجناب بشیر بدرؔ 15/فروری 1935ءکو ایودھیا (اترپردیش) میں پیدا ہوئے ،ان کا اصل نام سید محمد بشیر اور والد کا نام سید محمد نظیر ہے جبکہ اردو دنیا ان کو بشیربدرؔ کے نام سے جانتی ہے ، انہوں نے 14 سال کی عمر میں ہائی اسکول فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور 1973ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی ،دوران طالب علمی آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے ، اس کے بعد آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لکچررشپ کے بھی فرائض انجام دئے ، بعدازاں آپ  میرٹھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو سے منسلک رہے جہاں آپ نے تقریباً17/سال اپنی خدمات انجام دیں بعد میں فسادات کے بعد آپ نے اس شہر کو چھوڑا اورپھر دہلی ہوتے  بھوپال آکر مقیم ہوگئے، آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1999ء میں آپ کو "پدم شری ایوارڈ" سے نوازاگیا ،اس کے علاوہ آپ کو اترپردیش اروداکادمی اور بہار اردو اکادمی کی جانب سے بھی متعدد اعزازات کے علاوہ "میر ایوارڈ" سے بھی نوازا گیا  ، اس کے بھی علاوہ آپ نے اردو اکادمی کی چیرمین شپ کے بھی فرائض انجام دئیے،آپ نے اپنی شاعری کا آغاز اندازاً 7/سال کی عمر میں کیا ، بنیادی طور پر آپ ایک غزل گوشاعر کی حیثیت رکھتے ہیں ، "اکائی، امیج ،آمد، آہٹ، اجالے اپنی یادوں کے،کلیات بشیربدر"آپ کے مجموعائے کلام میں بہت نمایاں اور ممتاز ہیں جب کہ "آزادی کے بعد اردوغزل کا تنقیدی مطالعہ" اور "بیسویں صدی میں غزل" آپ کی بہترین تصنیف ہیں، برصغیر اورخلیجی ممالک کے علاوہ آپ نے کئی ایک مشاعروں کو اپنی شرکت سے یادگار بھی بنایا ہے۔

 


بشیر بدرؔ کا جملہ کلام
دھوپ کے پار ستاروں کا نگر لگتا ہے
اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں
تمام آگ ہے دل راہ خار و خس کی نہیں
جہاں پیڑ پر چار دانے لگے
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوجائے
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
یونہی بے سبب نہ پِھرا کرو

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ