خمار بارہ بنکویؔ

زبانِ اردو کے باکمال و بے مثال غزل گو شاعر جناب خمارؔ بارہ بنکوی صوبہ اترپردیش کے ضلع  بارہ بنکی میں 19/ستمبر 1919ء کوپیدا ہوئے، آپ کا اصل نام محمد حیدر خان اور تخلص خمارؔتھا،آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی پھر انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا اور اسی دوران چند ناگزیر حالات کی بنا پر سلسلۂ تعلیم ترک کردیا، آپ نے اپنی جوانی کی شروعات ہی سے شعروسخن کا آغاز کیا ، بڑے پیارے ترنم کے ساتھ مشاعرہ پڑھتے تھے جس کی وجہ سے وہ مشاعروں کی جان بن گئے اور خوب دادوتحسین حاصل کی ،"آتش تر"اور"رقص مے"سمیت ان کے چار شعری مجموعے بھی شائع ہوکردادِ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔

 19/فروری سنہ 1999ء کو آبائی وطن بارہ بنکی میں ان کا انتقال ہوا ۔


خمار بارہ بنکویؔ کا جملہ کلام
آنکھوں کے چراغوں میں اُجالے نہ رہیں گے
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
تاعمر جشنِ مرگ منانے کے واسطے
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
صبح بھی اچھی لگی اور شام بھی اچھی لگی
وہ جو مست آنکھوں کو مَل کر رہ گئے
وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ