محمد حسین فطرتؔ

پورا نام :

محمد حسین

تخلص :

فطرتؔ

تاریخ ولادت ومقام :

6 / جون  1932        بھٹکل

تاریخ وفات و مقام:

با حیات

مختصر حالات و کوائف:

جناب محمد حسین فطرت صاحب شہر بھٹکل (کرناٹک)کے مشہور و معروف شاعر ہیں ، ان کا شمار ریاست کے بلند پایہ شاعروں میں ہوتا ہے ، موصوف کی ابتدائی تعلیم شہر بمبئی میں ہوئی ، ہائی اسکول کی تعلیم سے فراغت کے بعد موصوف نے جامعۂ اردو علی گڑھ یونیورسٹی سے "ادیب ماہر" کا امتحان پاس کیا ، اپنے تخلص کی طرح تخلیقی قابلیت اور فن شاعری بھی فطری طور پر ہی ودیعت ہوئی تھی ، زمانہ ٔ طالب علمی ہی سے شاعری کی ابتداء ہوئی اور شہر بمبئی کے مشہور و معروف شاعر جناب ابوبکر مصورؔ سے استفادہ کرتے رہے ، موصوف کے چار مجموعۂ کلام شائع ہوئے ہیں اور منتخب کلام کا دیگر ایک مجموعہ "افق اعلی" کے نام سے بھی شائع ہوا ہے ، علاوہ ازیں "نفیر فطرت" کے نام سے کچھ مدت کے لئے ایک سہ ماہی کی بھی اشاعتیں ہوئی ہیں جس میں جناب فطرت کی نثری تخلیقات زینت بنی ہیں۔

مجموعۂ کلام:

  •    ساغرِ عرفاں
  • گل بانگ فطرت
  • سازِ ازل
  • سخن دل نواز

اعزازات و ایوارڈس:

  • صدر انجمن ترقی اردو (شاخ بھٹکل)
  • صدر ادارہ ادب اسلامی (شاخ بھٹکل)
  • رکن اردو اکادمی کرناٹک (2002)


محمد حسین فطرتؔ کا جملہ کلام
محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
برادرانہ تعلق جو خاک ہوتا ہے
تجلیات تو دیوار و در سے دور نہیں
زمانہ غرقِ صد حیرت ہے سن کر داستاں میری
واعظ یہ نہیں ہے وقتِ طرب اٹھ باندھ کمر دستار اٹھا
کلی اداس سہی پھول بے قرار سہی
فقیروں میں اگرچہ شانِ دارائی نہیں آتی
چمن کو اپنا لہو پلایا نمودِ برگ و ثمر سے پہلے
چمن والو ملالِ آشیاں سے کچھ نہیں ہوتا
اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت
نغماتِ ازل بیدار ہوئے پھر بربطِ دل کے تاروں میں
ہم شانہ کشِ زلفِ گیتی،ترانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل
میں سوچ رہا ہوں گلشن کی تزئین کا ساماں کیا ہوگا
درسِ اتحادِ ملت
کنارے پہ دریا کے مردہ پڑا تھا
ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ