کا جملہ کلام
تو عروسِ شامِ خیال بھی تو جمالِ روئے سحر بھی ہے
صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے
ہوا زمانہ کہ اُس نے ہم کو نہ بھول کر بھی سلام بھیجا
اپنی کشتی کو روانی سے الگ رکھتا ہوں
سانس کے شور کو جھنکار نہ سمجھا جائے
سحاب تھا کہ ستارہ گریز پا ہی لگا
فریبِ خندۂ پیہم کسی کو کیا معلوم
وہ اہتمامِ جشنِ بہاراں نہ کر سکے
ذرا سی بات کیا کہی خفا سے ہو کے رہ گئے
گو اپنے دوستوں کے برابر نہیں ہوں میں
زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
سمومِ کرب و حرماں اور داغِ رنج و غم پایا
حادثے کیا کیا تمہاری بے رخی سے ہوگئے
وہ جو لٹ گئیں مری عظمتیں مری غفلتوں کا خراج ہے
جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں
جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے
وہ بڑھا آگے جب اس جانب سے پسپائی ہوئی
داغ دنیا نے دئے زخم زمانے سے ملے
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
خوبصورت ہیں آنکھیں تری
جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
پرچھائیوں کی انجمن آرائی دے گیا
اہلِ ستم جو راہ سے میری گذر گئے
کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا؟
ایک ایسی بھی تجلی آج میخانے میں ہے
عشق تسلیم و رضا کے ماسوا کچھ بھی نہیں
مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے
رونے سے اور عِشق میں بےباک ہوگئے
پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
نہ رہی وہ بزمِ عشرت نہ وہ عیشِ جاودانہ
دوست اپنا جنہیں بناتا ہوں
ساز بے مطرب و مضراب نظر آتے ہیں
قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے
عمر بھر جن کو اپنا سمجھتے رہے
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
زندگی سے بارہا یوں بھی نبھانا پڑگیا
سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا
وقت آخر ٹہر گیا کیسے؟
یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
اس طرف سے گذرے تھے قافلے بہاروں کے
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
آنکھوں کے چراغوں میں اُجالے نہ رہیں گے
نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی
سورج کو بادلوں سے چھپانا محال ہے
اے نگاہِ دوست! یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا
کبھی نیندیں کبھی آنکھوں میں پانی بھیج دیتا ہے
دور کے نامۂ و پیغام میں کیا رکھا ہے
زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے
غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
تجھے ائے دشمنِ ایماں کہیں کیا کس قدر چاہا
رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا
کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
حدوں سے سب گزر جانے کی ضد ہے
نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُرالم نکلے
نقش یادوں کے تری دل سے مٹے جاتے ہیں
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہلِ سفر کے ساتھ
جانے یہ محّبت کیا شے تھی تڑپا بھی گئی تھپکا بھی گئی
رات دن چین ہم ائے رشکِ قمر رکھتے ہیں
تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا
بے کلی ہے اور دلِ ناشاد ہے
جب ذرا زخمِ دلِ بیمار بھرنے آئے ہے
مجھے پیار کرتے ہو ، کرتے رہو پر ۔ ۔ ۔
ترے لفظوں کے بہکائے ہوئے ہیں
آ گیا ماہِ صیام
زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا
عشق کا موسم غم کی ہوائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
محبّت کس قدر پاس آفریں معلوم ہوتی ہے
جھیل آنکھوں کو نہ ہونٹوں کو کنول کہتے ہیں
کسی کی بے رخی کا غم نہیں ہے
لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
تری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
رخِ رنگیں پہ موجیں ہیں تبسم ہائے پنہاں کی
بادِ صبا لائی تھی خوشبو ابرِ خراماں آیا تھا
جو بھی چلاّ کے ترنم میں ہیں گانے والے
اُس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
زندہ رہ کر زندگی کا مرثیہ لکھنا پڑا
ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
کچھ پیاس ہے اُس حُسن کو بھی میری نظر کی
عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے
سناؤں داستانِ عشق میں کس کو یہاں ساقی
جن پاک نفس انسانوں میں کردار کی عظمت ہوتی ہے
کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی
بنامِ طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
سنا کیا جو آنسو نکلنے لگے
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے پتے اگر بولیں
نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے
سمومِ کرب سے جھلسی کلی معلوم ہوتی ہے
غبار دل سے نکال دیتے
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
بچھڑتے وقت تو کچھ اس میں غم گساری تھی
آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا
تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
تم سے الفت کے تقاضے نہ نبھائے جاتے
جلتا ہوا لٹتا ہوا گھر دیکھ رہا ہوں
میں ترے درد کو غزلوں میں لیے پھرتا ہوں
چاک گریباں دیکھ کے ہم کو لوگو کیوں حیرانی ہے
وحشت کے اس شور کو مجھ میں مر جانے دے تھوڑی دیر
دھوپ کے پار ستاروں کا نگر لگتا ہے
مجھے پتا ہے مری کشتی بادبانی ہے
محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
کچھ پھول تھے کچھ ابر تھا کچھ بادِ صبا تھی
دیکھ کر اس کو زمانہ دنگ ہے
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا
تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں
تجهے تسکینِ دل پایا تجهے آرامِ جاں پایا
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
بیداری میں سوتے خواب
کبھی اپنے عشق پہ تبصرے کبھی تذکرے رخِ یار کے
وصل و فصل کی ہر منزل میں شامل اک مجبوری تھی
ہم نے اخلاص و وفا کے دام پھیلائے بہت
یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لئے
بھڑکا رہے ہیں آگ لبِ نغمہ گر سے ہم
خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے
دورِ نو میں ہے کوئی میری طرح مجبور بھی
ملے ہو تم تو بچھڑ کر اداس مت کرنا
اب جنونِ شوق میرا عشق کی منزل میں ہے
افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا
جو دل میں رکھتا ہے میرے لئے عناد بہت
خوش کلامی کی یہی میں نے سزا پائی ہے
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ اَفکار نہ رکھ
یکایک کھل گئیں آنکھیں جو بزمِ یار میں آئے
طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
ہر اک دریچہ کرن کرن ہے جہاں سے گزرے جدھر گئے ہیں
حرفِ بے صوت پہ ہم طرحِ نوا رکھتے ہیں
تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شبِ غم سنور گئی ہے
یہ جو ہم لوگ محبت کی زباں بولتے ہیں
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
دردِ دل پاسِ وفا جذبۂ ایماں ہونا
تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے
نہ آئیں وہ تو کوئی موت کا پیغام آ جائے
محبت ایک جیسی ہے وفائیں ایک جیسی ہیں
چشمِ بے خواب پہ خوابوں کا اثر لگتا ہے
جب ہُوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
یہ دنیا عالمِ وحشت میں کیا کیا چھوڑ دیتی ہے
کچھ یادگارِ شہرِ ستم گر ہی لے چلیں
بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہے
روز و شب یوں نہ اذیت میں گزارے ہوتے
وہ برقِ ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
اہلِ دل کو تجھ سے بڑھ کرکب ہے پیاری زندگی
تصور کے دریچوں میں حسیں دنیا سجاتا ہے
ابتدائے عشق ہے لطفِ شباب آنے کو ہے
جب بھی تیری یادوں کا سلسلہ سا چلتا ہے
اچھے اچھے بت کے بندے اب خدا ہونے لگے
شباب ڈھلتے ہی آئی پیری مآل پر اب نظر ہوئی ہے
تلخی زبان تک تھی وہ دل کا برا نہ تھا
پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے
مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکارا
یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
مسلماں ہم ہیں گلہائے گلستانِ محمدؐ ہیں
وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے
چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں
خبر ملی ہے غمِ گردشِ جہاں سے مجھے
جگر میں اور کبھی دل میں کسک معلوم ہوتی ہے
رشتوں کی دھوپ چھاؤں سے آزاد ہو گئے
مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
جو کھل کر اُن کی زُلفیں بال آئیں سر سے پاؤں تک
یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آرام سے ہم
ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغِ جاں پھربھی جل رہا ہے
احساسِ خوشی مٹ جاتا ہے افسردہ طبیعت ہوتی ہے
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں
گلستاں پرخزاں چھائی ہوئی ہے
سمجھے تھے آشیانہ ہے زنداں میں آ گئے
تاعمر جشنِ مرگ منانے کے واسطے
فلک سے خاک پر لایا گیا ہوں
سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیا
تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں
ترے خیال کا چرچا ترے خیال کی بات
ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
ہم بھی بدل گئے تری طرزِ ادا کے ساتھ ساتھ
تم نے کہا تها چپ رہنا سو چپ نے بهی کیا کام کیا
وہ جنگ میں نے محاذِ انا پہ ہاری ہے
یہ دنیا ذہن کی بازی گری معلوم ہوتی ہے
دل کا ہرقطرۂ خوں رنگِ حنا سے مانگو
خوشبو کا ہاتھ تھام کر اس کے نگر گئیں
دورِ حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہوجانا
نہ آیا ہوں نہ میں لایا گیا ہوں
کبهی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا
جاؤ قرارِ بے دلاں شام بخیر شب بخیر
پھر وہی بے دلی پھر وہی معذرت
دیکھا جو حسنِ یار طبیعت مچل گئی
سحر کے انوار دیکھتا ہوں طلوعِ نجمِ سحر سے پہلے
بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے
برادرانہ تعلق جو خاک ہوتا ہے
انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا
شعلۂ برق تبسّم سے جلا دی جائے
اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
یہ عشق نے دیکھا ہے ، یہ عقل سے پنہاں ہے
اُٹھ اُٹھ کے بیٹھ بیٹھ گئے ، پھر رواں رہے
ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
خود سے جس روز ڈر گیا ہوتا
جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
خود پہ نافذ کیجئے کردار سازی کا عمل
اس شہرِ نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے
خنجر سے کرو بات نہ تلوار سے پوچھو
خلقتِ شہر بھلے لاکھ دُھائی دیوے
اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے
برق نے ضد میں نشیمن پہ جو ڈالیں آنکھیں
شادی تو چار کر چکا فصلِ بہار میں
چاہت میں کیا دنیا داری ،عشق میں کیسی مجبوری
محبت کو عقیدہ ، عاشقی کو دِین کہتا تھا
اب کہ تصویر بناتے ہوئے یہ دھیان رہے
انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا
کیسے کیسے خواب گنوا کر آیا ہوں
شور ہے ہر طرف ، سحاب ، سحاب
اندھیرے میں بھی وہ سیمیں بدن ایسا دمکتا تھا
‏ہم نے محشر سے بیشتر جانا
وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں
پرانے دور ، گذشتہ سفر ، خدا حافظ
مضطرب ہوں ، قرار دے اللہ
اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
حسابِ ترکِ تعلق تمام میں نے کیا
آئی بہار سُنبل و ریحاں نکھر گئے
یُونہی تو شاخ سے پتّے گِرا نہیں کرتے
مانا مقامِ عشرتِ ہستی بلند ہے
حُسن کا انصاف ہے اہلِ نظر کے سامنے
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
کون سود و زیاں کی دنیا میں
اندازِ ستم اُن کا نہایت ہی الگ ہے
ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
موجِ گل موجِ صبا موجِ سحر لگتی ہے
دنیا کی ہر جنگ وہی لڑ جاتا ہے
تیرے آنے کا انتظار رہا
دیوانہ کوئی جانبِ صحرا اگر گیا
یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
اوجھل سہی نگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں
تجلیات تو دیوار و در سے دور نہیں
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
تری نگاہ کی ہر جنبشِ حجابانہ
ہوگئے ساقی سے طالب جام کے
پھر رہِ عشق وہی زادِ سفر مانگے ہے
کیا کہہ کے عندلیب چمن سے گذر گئی
آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
یہ کہاں گردشِ ایام کھپی جاتی ہے
سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
بات اپنی جب کھری ہونے لگی
تہمتیں چند اپنی ذمّے دھر چلے
خبرِ تحیرِ عشق سن ، نہ جنوں رہا نہ پری رہی
تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں
دشمنی کا بول بالا دوستی خاموش ہے
تہِ خنجر بھی جو بسمل نہیں ہونے پاتے
تو پاس بھی ہو تو دلِ بے قرار اپنا ہے
جس دن سے میرے گھر میں وہ آئی ہے نیک بخت
زمانہ غرقِ صد حیرت ہے سن کر داستاں میری
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
جب بے خودی سے ہوش کا یارانہ ہوگیا
میں وہ رند ہوں کہ ساقی ترا نام چاہتا ہوں
تیرے خاطر اک اشارہ رکھ دیا
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
میں جانتا ہوں وہ نزدیک و دور میرا تھا
اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
آدمی نے جو زندگی پائی
شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے
غزل میں فکر کے تازہ گلاب رکھ دینا
دیتا ہے لطفِ خاص یہ دردِ جگر مجھے
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
بے کراں شب میں کہیں ایک ستارہ ہی سہی
دائیں بائیں آگے پیچھے خواب ہی خواب
دھوپ کھائے ہوئے کانٹوں میں بیابانوں کے
گذشتہ عہد گزرنے ہی میں نہیں آتا
چہرے پڑھتا آنکھيں لکھتا رہتا ہوں
گلہ یہ کیوں کہ مسافر سبک خرام نہیں
اُن کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے
اکثر چھوٹے لوگ ملے ہیں عالی شان ایوانوں میں
مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں
لطفِ نگاہِ ناز کی تہمت اُٹھائے کون
جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
ہر کوششِ پیہم خام ہوئی ہر سعیٔ طلب ناکام رہی
ماتھے کی شکن بن کر غم دل کا عیاں ہوتا
در پردہ جفاوؤں کو اگر جان گئے ہم
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
اک یار روز لکھتے تھے اک مہ جبیں کو خط
میں تو زنداں میں ہوں اور دھومیں مچاتی ہے بہار
اُن حسینوں کی نگاہیں فتنہ ساماں ہو گئیں
بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی
ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے
حُسن کب عشق کا ممنونِ وفا ہوتا ہے
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
دلِ آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
نقابِ رخ اٹھا کر مسکرا کر
خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
زخمِ دل سوزِ دروں خونِ جگر مانگے ہے
افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رُخ بھی بدل گئے
دردِ غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے
کچھ اس طرح نگاہ سے اظہار کر گئے
مزاجِ زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی
واعظ یہ نہیں ہے وقتِ طرب اٹھ باندھ کمر دستار اٹھا
ستم کے بعد اب ان کی پشیمانی نہیں جاتی
عید قرباں اصل میں ایثار ابراہیم ہے
تمناوؤں میں الجھایا گیا ہوں
اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم
کس کو ملی تسکینِ ساحل کس نے سر منجدھار کیا
داغ سینے کے مرے یار کے دیکھے ہوئے ہیں
بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں
چراغِ طور جلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے
ہنگامِ تہجد پیشِ خدا خاصانِ خدا ہی روتے ہیں
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
نہ سکت ہے ضبطِ غم کی نہ مجالِ اشک باری
ہلکی سی توجہ دیتے ہیں مبہم سا اشارہ کرتے ہیں
کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
مرے لب پہ کوئی نوا نہیں مری دھڑکنوں میں صدا نہیں
مشکل یہ ہے کہ کیا نہ کہو اور کیا کہو
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
ہر اک جنت کے رستے ہوکے دوزخ سے نکلتے ہیں
کبھی لب پہ آ کے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی
تاریکیٔ خیال تک اپنی نظر گئی
شامِ فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی
تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کُھل جائیں
ربطِ جان و دل بھی ہے رنجشیں بھی ہوتی ہیں
کلی پر مسکراہٹ آج بھی معلوم ہوتی ہے
ہم تم سے بچھڑ کر جانے کیوں وہ عہد وہ پیماں بھول گئے
ٹوٹی پھوٹی ناؤ ہے الٹی ہوا ہے اور میں
زلف و رخ کے سائے میں زندگی گزاری ہے
کبھی زباں پہ تھا افسانۂ لب و رخسار
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
فراغِ صبر و ثباتِ قدم کے دیوانے
جو کانٹوں پر چل کر آئے
بزمِ تکلفات سجانے میں رہ گیا
میں اپنے گرد لکیریں بچھائے بیٹھا ہوں
اک فقط مظلوم کا نالہ رسا ہوتا نہیں
زندگی میں پہلے اتنی تو پریشانی نہ تھی
محبتوں میں کوئی تمہارا یہ حال کردے تو کیا کروگے؟
کسی سے میری منزل کا پتہ پایا نہیں جاتا
تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے
توڑ کر اٹھے ہیں جام و شیشہ و پیمانہ ہم
رات بھر اُن کا تصوّر دل کو تڑپاتا رہا
دلربا پہلو سے اب اُٹھ کر جدا ہونے کو ہے
کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہے
خوش جمالوں کی یاد آتی ہے
آئے ہیں کس ادا سے دوپٹّہ سنبھال کے
پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
گئے زمانے کی صورت بدن چُرائے وہ
چراغ کوئی جلا کے دیکھیں
زندگی بھر زندگی کے فیصلے ہوتے رہے
نرم فضا کی کروٹیں دل کو دُکھا کے رہ گئیں
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
نہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہے
تم نے بدلے ہم سے گِن گِن کے لئے
ہم خونِ تمنا پیتے ہیں غم کھا کے گذارا کرتے ہیں
رات کی تاریکیوں میں کہکشاں دیکھا کئے
ائے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے
ادب نے دل کے تقاضے اُٹھائے ہیں کیا کیا
جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا
ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
شعلوں کی گفتگو ہو تو شبنم لگے مجھے
جھونکے کچھ آ گئے تھے نسیمِ بہار کے
چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
وہ چشمِ زر کہاں یہ مری چشمِ تر کہاں
اُسے دیکھا اُسے سوچا بہت ہے
اپنا چہرہ کئی چہروں میں بدلتا دیکھوں
تجھ کو پانے کے لئے دونوں جہاں دیکھے گئے
ہماری آنکھیں بھی ہوجائیں خواب رو آنکھیں
عشق کرنے کا یہی وقت ہے ، ائے انسانو
سگنل پہ روکا ، روک کے بولا کوئی گدا
جانے آیا تھا کیوں مکان سے میں
نہ بام و در نہ کوئی سائبان چھوڑ گئے
پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا
کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے
شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا
شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
جب سے بیٹا تبصرہ کرنے لگا
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
تابش ہے مہر میں نہ تجلی ہے ماہ میں
ہم جہل کی ظلمت کو دنیا سے مٹا دیں گے
کبھی درماں کی دعوت اور نہ تکلیفِ کرم دیں گے
کوچۂ شوق رہِ فکر و نظر سے گزرے
کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے
انتظامات نئے سر سے سنبھالے جائیں
وصل ارزاں وقت کی لیکن فراوانی گئی
میکدے بند کریں لاکھ زمانے والے
ہمیں کیا آپ انجامِ محبت سے ڈراتے ہیں
نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپنا
شعر میں کچھ کسر کچھ کمی رہ گئی
فکر ہی ٹہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو
پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے
دور سے آئے تھے ساقی سن کے میخانے کو ہم
مشاعروں میں گویّے بلائے جاتے ہیں
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
کیا جانے ذوق و شوق کے بازار کیا ہوئے
دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی
شب کو کیا کیا باغ میں جلوے تمہارے ہوگئے
مے کشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیں
دیوانوں کو اہلِ خرد نے چوراہے پر سولی دی ہے
دوستی امن محبت کی زباں ہے اردو
تو رسولِ حق تو قبولِ حق ترا تذکرہ ہے فلک فلک
شبِ وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
میری بیخودی ہے وہ بیخودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں
اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا
برسات میں ٹپکتی ہوئی چھت بنا ہوا
عطر کی عود کی عنبر کی سمن کی خوشبو
حرف حرف رٹ کر بھی آگہی نہیں ملتی
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے
اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میں
حسن سراپا عشقِ مجسم صلی اللہ علیہ و سلم
فضا کو دیکھ کے ذوقِ نظر پہ کیا گزری
غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہوجائے
کوئی بتائے کب بدلے گی اپنا یہ معمول ہوا
ادا آئی، جفا آئی، غرور آیا، حجاب آیا
محشر میں کانپتے ہیں ستم گر الگ الگ
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
بہت گھٹن ہے کوئی صورتِ بیاں نکلے
عمر بھر حسرتِ تعمیرِ نشیمن میں رہوں
فغاں شکارِ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا؟
گزری حیات وہ نہ ہوئے مہرباں کبھی
ہزار گردشِ شام و سحر سے گزرے ہیں
گریباں چاک محفل سے نکل جاؤں تو کیا ہوگا
پھولوں کو آگ لگ گئی نغمات جل گئے
خاموش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے
جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں
خواب اس کا خیال اس کا ہے
تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں
حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا
ہم بارہویں کلاس میں جب اسٹوڈنٹ تھے
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے
کچھ اس طرح تڑپ کر میں بے قرار رویا
کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا
کبھی یہ شہرِ جمال اتنا کم وقار نہ تھا
لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف
تجدیدِ روایاتِ کہن کرتے رہیں گے
ہمیں شعورِ جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
مقتل مقتل اہلِ ستم کا حوصلۂ دل دیکھا ہے
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
کہا اک مولوی نے دیکھ کر جوتا مرے آگے
کام آئیں شوخیاں نہ ادا کارگر ہوئی
مصدرِ انوارِ عرفاں ہیں محمد مصطفیٰ
نہیں کہ جادۂ عیش و نشاط پا نہ سکے
یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے
کسے معلوم تھا اس شئے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی
بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا
نزع میں کچھ خاطرِ بیمار کرنا چاہیئے
ہے کمال رقصِ صوفی بھی نشاطِ پادشاہی
بتاؤ میں کیسے لٹ گیا ہوں مری ذرا آنکھ لگ گئی تھی
کیا کیا ہے عرض کرنا ، یہ عرض پھر کروں گا
کس بیم و رجا کے عالم میں طیبہ کی زیارت ہوتی ہے
جو دیکھنے کا تمہیں اہتمام کرتے ہیں
ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
سرِ صحرا حباب بیچے ہیں
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
خزاں کے بعد مری جاں بہار بھی آئی
اگر بزمِ انساں میں عورت نہ ہوتی
کوئی ہے شیشہ و شراب میں مست
سخت کم یاب سی نعمت ہے مگر ملتی ہے
نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
کشتہ ہے اُن کی ترچھی نظر کی تمام خلق
ٹہر ٹہر کے زمیں سائے دار کرتے ہوئے
کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں
شاعر میں اور شعر میں اک بحث چھڑ گئی
ادھر دیکھ لینا ، اُدھر دیکھ لینا
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
اٹّھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹّھے
ہجر کی رات کا انجام تو پیارا نکلا
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو
مشعلِ سیرتِ سرکار جلا رکھی ہے
اگر اُٹّھی تو کیا اُٹّھی اگر برسی تو کیا برسی
بستی بستی وادی وادی صحرا صحرا خون
یہ دونوں متحد شکلیں ہیں حسن و عشقِ کامل کی
اپنا کوئی ملے تو گلے سے لگائیے
زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے
زندگی ، زندگی ، پر خطر زندگی
آخرش چوٹ کھا گئی دنیا
ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے
نہیں جاتی کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی
حقیقتِ حسن ۔ ۔ ۔ ۔حسن کاکل میں نہ گیسوئے
ہم گذشتہ صحبتوں کو یاد کرتے جائیں گے
دل کی مسرتیں نئی جاں کا ملال ہے نیا
جانے والے ہماری محفل سے
ائے سرورِ دوکون شہنشاہِ ذو الکرم
منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا
کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوائے جا
گل ہوئی شمعِ شبستاں چاند تارے سو گئے
کوئی آتش در سبو شعلہ بہ جام آ ہی گیا
جلوے تمام صرفِ نظر ہو کے رہ گئے
مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
کیوں جوانی آئی دو دن کے لئے
کہاں ملے گا زمانے کو اب قرار حضور
پیش جب فہرست کی بیگم نے شاپنگ کی مجھے
تردید کی سب خبریں اخبار سے ملتی ہیں
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
پسِ مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا
کسی کا ساتھ نبھانا تھا اور کیا کرتا
خبر کیا تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کردے گا
نہ جانبازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا
سکوں پسند جو دیوانگی مری ہوتی
عشقِ نبوی دردِ معاصی کی دوا ہے
چالان ہو چکا تو کیا میں نے یہ سوال
منہ سے نکلی ہوئی باتوں کا ہوا ہوجانا
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
بے سہاروں کا انتظام کرو
چلتے چلتے ہیں پڑے پاؤں میں چھالے کتنے
اک عمر تیرے ہجر میں ظالم گذر گئی
اہلِ طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
چند کلیاں نشاط کی چن کر
اک روز جا رہے تھے کہیں سائیکل سے ہم
علاجِ زخمِ دل ہوتا ہے غم خواری بھی ہوتی ہے
سوزِ غم دے گیا کون سا رشکِ گل
رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہے
اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا
سچ بات مان لیجئے چہرے پہ دھول ہے
کس سے گہری محبتیں کرتے
آپ ہیں صاحبِ قرآن رسولِ عربی
ٹوٹا تھا گھر میں کیا کیا یہ عرض پھر کروں گا
جو فطرتِ غم ناکام ہوئی اک لذّتِ حرماں پا ہی گئی
سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
فضا مغموم ہے ساقی اُٹھا چھلکائیں پیمانہ
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
گیسو ہیں ترے بکھرے یوں شام ہوئی جیسے
توڑ کر عہدِ کرم نا آشنا ہوجائیے
مذاقِ رہ روی ہے اپنے اپنے دل سے وابستہ
ہم نشیں ، آ ذرا دل کھول کے کچھ بات کریں
اک معجزے سے کم نہیں ہجرت رسول کی
رفتہ رفتہ ہر پولس والے کو شاعر کردیا
تمام آگ ہے دل راہ خار و خس کی نہیں
چاند آ بیٹھا ہے پہلو میں ، ستارو ! تخلیہ
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
خدا جانے کہاں ہے اصغرِؔ دیوانہ برسوں سے
نہ پوچھ آج شبِ ہجر کس قدر ہے اُداس
اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا
جب فصلِ بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں
بلائے ناگہانی بھی پیامِ زندگانی بھی
کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد
ہجر کو وصل کے آثار پہ رکھا ہوا ہے
ایسی آسانی سے قابو میں کہاں آتی ہے آگ
تم نور کی وادی تھے میں نجد کا صحرا تھا
اگر اُن کو ہے بھروسہ کہ ہے ساتھ اک زمانہ
زندگانی کو وقفِ شریعت کرو
ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ
پیمانوں میں روشن کرنیں چہروں پر ہے نور بہت
خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا؟
منظورؔ لہو کی بوند کوئی اب تک نہ مری بیکار گری
جہاں تلک بھی یہ صحرا دِکھائی دیتا ہے
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے
اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ
جب غم کی لطافت بڑھتی ہے جب درد گوارا ہوتا ہے
نزاکت کس قدر ہے اس غمِ دوراں کی چالوں میں
مرے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی
لکنت جو اس نے دیکھی ہماری زبان میں
لب اگر یوں سئے نہیں ہوتے
جو شک رہا بھی تو کیا جو یقیں رہا بھی تو کیا
پڑھ چکے حسن کی تاریخ کو ہم تیرے بعد
صبح بھی اچھی لگی اور شام بھی اچھی لگی
نہ خوفِ برق نہ خوفِ شرر لگے ہے ہمیں
اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے
اترتا ہے جو آنکھوں سے تمہارے غم کا پیراہن
جہاں میں حالیؔ کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا
صرف اخبار کی سرخیاں رہ گئیں
اک ایک ستم اور لاکھ ادائیں اُف رے جوانی ہائے زمانے
سادگی پر اس کی مرجانے کی حسرت دل میں ہے
میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثناخواں نہ ہوا
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹہرے
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گذری
تھی گر آنے میں مصلحت حائل
بحر و بر پر چھا گئی عظمت رسول اللہ کی
کلی اداس سہی پھول بے قرار سہی
دل کی بستی کو نہ ویران بنائے رکھنا
مہرباں ہم پہ جو تقدیر ہماری ہوگی
جنوں نے دشت بدلا رنگِ اربابِ چمن بدلے
بشر کی روح میں یہ اضطراب کیسا ہے
نہ خوفِ برق نہ خوفِ شرر لگے ہے مجھے
تکلف برطرف ائے دوستو جب شام آتی ہے
بہکانے والے آپ کے سب یار بن گئے
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں
زندگی ہے اور دلِ نادان ہے
رسولِ مجتبے کہیئے محمد مصطفے کہیئے
تم زمانہ آشنا تم سے زمانہ آشنا
کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں
خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
دستِ منعم مری محنت کا خریدار سہی
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
ساقی کی اک نگاہ کے افسانے بن گئے
چمن میں اہلِ چمن فکرِ رنگ و بو تو کرو
اس کی عادت ہے بھلا دیتا ہے وعدہ کرکے
اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا
جس طرف دیکھو ہزاروں سلسلے بیتاب ہیں
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لئے ہے
رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہلِ جنوں بے باک نہیں
تسکین بھی دی ارمانوں کو اور دل کو مرے تڑپا بھی گئے
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اُسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا
مرا بچپن بہت اچھا تھا جوانی اچھی
نہیں یہ فکر کوئی رہبرِ کامل نہیں ملتا
کیا ہوگی بھلا شہرِ وفا میں بسر اوقات
بہار آئی ہے اب مجھ کو نکل جانا ہے گلشن سے
جہاں پیڑ پر چار دانے لگے
اب وہ رکھتا ہے جدائی کے بہانے کتنے
شکوہ کیا جفا کا تو نمدیدہ ہوگئے
نہ غنچہ ہے نہ سنبل ہے پڑا ہے باغ ویرانہ
کچھ غمِ جاناں کچھ غمِ دوراں دونوں میری ذات کے نام
جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
بیگانہ وار اُن سے ملاقات ہو تو ہو
ہم نے تو اس عشق میں یارو کھینچے ہیں آزار بہت
اکیلا گھر ہے کیوں رہتے ہو کیا دیتی ہیں دیواریں
شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
کانٹوں سے میں نے پیار کیا ہے کبھی کبھی
فقیروں میں اگرچہ شانِ دارائی نہیں آتی
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
زندگی بھر عذاب سہنے کو
زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے
دینِِ حق مشکلوں میں پلتا ہے
وہ جو مست آنکھوں کو مَل کر رہ گئے
وہ آئے ہر کسی کے سامنے اور بار بار آئے
مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں
یہی طے جان کر کودو اصولوں کی لڑائی میں
یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے
کوئی محفل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے
ازل کے رازِ سربستہ کئے میں نے نہاں اب تک
پھر جنوں نامعتبر ہے پھر خرد مشکل میں ہے
یہ جو دیوانے سے دوچار نظر آتے ہیں
خانہ ویرانی سے کتنا خوش دلِ مایوس ہے
تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں خورشیدِ منور آتے ہیں
ستم کو بھی کرم ہائے نہاں کہنا ہی پڑتا ہے
کیا تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا ائے شورشِ دوراں بھول گئے
ہے امتِ رسول سے جنت بھری ہوئی
دسترس میں ہو نہ ہو کچھ اور بس یوں ہی سہی
گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
کون سلگتے آنسو روکے آگ کے ٹکڑے کون چبائے
ہو کر عیاں وہ خود کو چھپائے ہوئے سے ہیں
اُس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہے
پکّی قبریں ، کچّے گھر
ترے کوچے کو وہ بیمارِ غم دار الشفا سمجھے
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
کیوں اسیرِ گیسوئے خم دار قاتل ہوگیا
تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
شکوہ مرا شرمندۂ احساں سا لگے ہے
خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردہ کرے کوئی
فرش کے مکینوں کو عرش کی خبر لے کر میرے مصطفی آئے
ہر شخص کہہ رہا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
تُف ہو ہم پر کہ کبھی تُف نہیں کرتے ہم لوگ
کنٹرول کر رہی تھیں ٹریفک کا لڑکیاں
مشعل تھے جو بحرِ ظلمت میں وہ ماہ و اختر ٹوٹ گئے
خود ہی میں ساقی تھا خود میکش تھا خود ہی جام تھا
ہوگئے رخصت یہاں سے ہائے کیا کیا آشنا
جانتا کوئی نہیں تقدیر کیا ہے کیا نہیں
کچھ عجب آن سے لوگوں میں رہا کرتے تھے
میسر ہو اگر ایمانِ کامل
چمن کو اپنا لہو پلایا نمودِ برگ و ثمر سے پہلے
ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
ترکِ محبت اپنی خطا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
قیمت اپنی مانگتی تھی بھینس پورے بیس ہزار
تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
وہ نغمہ بلبلِ رنگیں نوا اک بار ہوجائے
تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی وہ سعیٔ کرم فرما بھی گئے
کتنے نالے تھے جو شرمندۂ تاثیر ہوئے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑدے
دل مانتا نہیں کہ حقیقت نہیں تھی وہ
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
لطفِ نہاں سے جب جب وہ مسکرادئے ہیں
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
جو کسی پہ آپ نہ کرسکے مجھے اُس جفا کی تلاش ہے
وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
حقیقت میں تو میخانہ جبھی میخانہ ہوتا ہے
اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھی خوابوں ميں مليں
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
اُن کوبت سمجھا تھا یا اُن کو خدا سمجھا تھا میں
کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا
اِتنا نہ اپنے جامہ سے باہر نکل کے چل
یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
یہ رُکے رُکے سے آنسو یہ گھٹی گھٹی سی آہیں
ائے کاش پھر مدینہ میں اپنا قیام ہو
اک شام کسی بزم میں جوتے جو کھوگئے
مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
سبھی کو چھوڑ کے خود پر بھروسہ کر لیا میں نے
سلام ائے آمنہ کے لال ائے محبوبِ سبحانی
طالبانِ علم کی نالج کو کیا کہیئے فگار
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بناؤگے
ہر نفس میں دل کی بیتابی بڑھاتے جائیے
رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
کسی کا رنج دیکھوں یہ نہیں ہوگا مرے دل سے
جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے
آرزو یہ ہے کہ نکلے دَم تُمہارے سامنے
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوجائے
جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لئے
کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہوگئے
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
بولا دوکان دار کہ کیا چاہیے تمہیں؟
یوں آگئی شوخی بھی اب اُس کی اداؤں میں
بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گے
نور کس کا ہے چاند تاروں میں
پانی میں ریت ریت میں پانی تمام شُد
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر
یا محمد! آپ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس
بہت خوبصورت ہو تم ، بہت خوبصورت ہو تم
غزلیں بھی کہیں پُرغم کتنی اس پر بھی علاجِ غم نہ ہوا
تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
چمن میں آمدِ خیر الوری کی جب خبر پائی
ائے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا
سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
اس جُدائی نے طلب تیری بڑھا دی کچھ اور
یہ عالم ہے ہماری تشنگی کا
سامانِ تجارت مرا ایمان نہیں ہے
حاکمِ رشوت ستاں فکرِ گرفتاری نہ کر
تم گُل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
چمن والو ملالِ آشیاں سے کچھ نہیں ہوتا
پائے کا شاعر۔۔۔ ہزار نعمت پروردگار
دعوت و ہدایت کی اک حسیں شفق لے کر،میرے مصطفی آئے
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
سکتہ تھا ایک شاعرِ اعظم کے شعر میں
سامنے ہی تھے مگر بات نہ ہونے پائی
ہم خلوص والے ہیں یہ بھی کر دِکھائیں گے
جب فصلِ بہاراں آئی تھی گلشن میں اُنہی ایام سے ہم
اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت
ہم لوگ مسلماں ہیں،مسلماں ہیں،مسلماں
کبھی بن سنور کے جو آ گئے ، تو بہارِ حُسن دِکھا گئے
کھویا کھویا رہتا ہے دل
کچھ ایسے پھول ناگہاں، ہوا اُڑا کے لے گئی
محبت میں مسافت کی نزاکت مار دیتی ہے
حقیقتِ حسن ۔۔۔خدا سے حسن نے اک روز
آپ کا بھرم سارا خاک میں ملادیں گے
وہ سراپا سامنے ہے ۔۔۔۔۔ استعارے مسترد
ہجر کی شب یوں مرے نالے صدا دینے لگے
ہر پھول تمہارا ہے ، ہر خار ہمارا ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
نغماتِ ازل بیدار ہوئے پھر بربطِ دل کے تاروں میں
جتنے بھی ہیں ازم جہاں کے ان سب کو ناکام کرو
ہم شانہ کشِ زلفِ گیتی،ترانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل
ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
سلامت بھیڑ میں پہچان رکھنا
محمد مصطفی محبوب ِ داور سرورِ عالم
ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
بڑے ادب سےغرورِ ستمگراں بولا
چاہے تن من سب جل جائے
میں سوچ رہا ہوں گلشن کی تزئین کا ساماں کیا ہوگا
خوشی چاہتا ہوں نہ غم چاہتا ہوں
درسِ اتحادِ ملت
چین و عرب ہمارا ، ہندوستاں ہمارا
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے، کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
ترا شیوہ کرم ہے اور مری عادت گدائی کی
مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
گذر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا
اردو ہے مرا نام ، میں خسروؔ کی پہیلی
جن کا مسلک ہے روشنی کا سفر
اعلان کر رہے ہیں بڑی عاجزی سے ہم
چار شادی کی اجازت دی مجھے
زہے قسمت ! زباں پہ جس کی ذکرِمصطفی ہوگا
گذرے ہوئے شباب کی یوں یاد آئے ہے
ہماری پیا س کو مجبوریوں کا نام نہ دو
کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
میں سوئی جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی​
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
کیسے کیسے خواب دیکھے ، دربدر کیسے ہوئے
محبت کیا ہے، دل کا درد سے معمور ہو جانا
ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
ابھی غنیمت ہے صبر میرا
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
اب یہ معیار ِ شہر یاری ہے
ایک آہ گرم لی تو ہزاروں کے گھر جلے
کنارے پہ دریا کے مردہ پڑا تھا
ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
معمول پہ ساحل رہتا ہے فطرت پہ سمندر ہوتا ہے
جب کبھی بولنا وقت پر بولنا
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کبھی ائے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے
اب زمیں کا بدن نہ چھوڑیں گے
بن گیا ہے دل نشانہ جب سے اس کے تیر کا
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں
خلق کے سرور ، شافع ِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم
جناب ! دم کی عجب نفسیات ہوتی ہے
یونہی بے سبب نہ پِھرا کرو
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں

پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ